تحریر: اللہ رکھا تبسم،واہ کینٹ
پاکستان ایک زرعی ملک ہے۔زراعت کو ملکی معیشت میں اہم حیثیت حاصل ہے۔ ہماری زیادہ تر آبادی دیہات سے تعلق رکھتی ہے اور ان کا ذریعہ آمدن بھی بالواسطہ یا بلا واسطہ کاشت کاری اور زراعت سے وابستہ ہے۔ حالیہ برسوں میں زراعت کو حکومتی سطح پر اہمیت نہیں دی جا رہی جس کی وجہ سے اس پیشے سے منسلک کاشت کار بحران سے دو چار ہے۔ گندم کو پاکستان میں لازمی جزو سمجھا جاتا ہے جو کہ ہر امیر اور غریب کی بنیادی ضرورت ہے۔ پچھلے دو سالوں سے گندم کی قیمت انتہائی نیچے چلی گئی ہے جس کا فائدہ عوام کو بلاشبہ ہو رہا ہے مگر کسان بری طرح پس رہا ہے اس کو محنت کا صلہ نہیں مل رہا دوسری طرف دیکھیں تو کھادوں کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ ہو رہا ہے۔ کسان کے اخراجات بڑھ گئے ہیں جب کہ آمدن قلیل ہونے کی وجہ سے زراعت کو نقصان کا اندیشہ ہے۔جب کسان خوش حال نہیں ہو گا اس کی ضروریات زندگی جو کہ زرعی پیداوار سے جڑی ہوئی ہیں پوری نہیں ہوں گی تو اس کا اثر معیشت پر لازمی مرتب ہوگا۔ پاکستان میں گنے کی پیداوار کافی زیادہ ہوتی ہے کسان سے گنا سستا خرید کر شوگر ملز مالکان اس کا منافع کئی گنا زیادہ کماتے ہیں۔ شوگر مافیا چینی کی قیمتوں پر قابو نہیں پانے دیتی یہاں پر حکومت شوگر مافیا سے بلیک میل ہو کر مہنگے داموں عوام کو چینی دے رہی ہے۔ اس ساری صورت حال میں جہاں عوام مہنگائی سے پریشان ہے وہیں کسانوں کا استحصال ہو رہا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے حکومت کو ہنگامی بنیادوں پر کسانوں کو ریلیف دینا ہو گا ان کا معاشی تحفظ حکومت پاکستان کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
اصولاً تو یہ ہونا چاہیے کہ کسانوں کو سبسڈی دی جائے سستے داموں کھادیں اور دیگر زرعی ادویات فروخت کی جائیں تاکہ کسان ذہنی اور جسمانی سکون کے ساتھ زرعی اجناس کی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ کرے اور ملکی معیشت کو مضبوط بنائے۔ یہ بات کسی بھی طرح پس پشت نہیں ڈالی جا سکتی کہ کسان خوش حال تو پاکستان خوش حال۔ کسان نہ دن دیکھتا ہے نہ رات، ہمارے لیے غلہ منڈیوں تک پہنچاتا ہے۔ اس کی بھی ضروریات ہیں شادی بیاہ، بچوں کی پڑھائی اور معاشرے میں دیگر لین دین۔ ان سب کو پورا کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے جو کہ کسانوں کو ان کی فصلوں کی اچھی قیمت دے کر پوری کی جاسکتی ہے۔ یہ بات واضح ہے کہ اگر کسان ترقی کرے گا تو ملک خود کفیل ہوگا۔
Latest Posts
