عبدالرؤف ملک کمالیہ
ایران اپنا ایک مضبوط اور شان دار تاریخی پسِ منظر رکھتا ہے۔ یہ سرزمین ہمیشہ سے ہی مردم خیز رہی ہے جس نے ایسے ایسے بہادروں کو جنم دیا جن کا نام رہتی دنیا تک لیا جاتا رہے گا۔ ایران کے تاریخی پسِ منظر میں سے ایک واقعہ پیشِ خدمت ہے جس کو امام ابنِ کثیر نے اپنی کتاب “البدایہ والنہایہ” اور امام محمد بن جریر الطبری نے اپنی کتاب ”تاریخ الطبری“ میں نقل کیا ہے۔
فتح ایران کے بعد ایران کا ایک مشہور سپہ سالار ہرمزان جب قیدی بنا کر حضرت عمر فاروقؓ کے پاس لایا گیا تو آپ نے اسے اسلام قبول کرنے کی دعوت دی۔ ہرمزان نے اس دعوت کو قبول کرنے سے انکار کردیا۔ حضرت عمرؓ نے اسے قتل کرنے کا حکم صادر فرمادیا۔ اس کے قتل کے وقت اس نے حضرت عمرؓ کی جانب دیکھ کر کہا کہ میں پیاس سے نڈھال ہو رہا ہوں۔ کیا ایسا ممکن ہے کہ مجھے قتل کرنے سے پہلے پانی پلا دیا جائے؟
حکم ہوا کہ اسے پانی پلایا جائے۔ ہرمزان نے پانی کا پیالہ ہاتھ میں لیا اور جنابِ عمرؓ سے کہنے لگا کہ وعدہ کریں کہ جب تک میرے ہاتھ میں موجود پیالے کا پانی میں پی نہیں لیتا آپ مجھے قتل نہ کریں گے۔
حضرت عمرؓ نے وعدہ کرلیا کہ جب تک تم پانی نہیں پیو گئے تمہیں قتل نہیں کیا جائے گا۔
ہرمزان نے آپ کی بات سنی اور جلدی سے پانی کو نیچے گرا کر ضائع کر دیا اور کہنے لگا کہ اے امیر المومنین! آپ وعدہ پورا کرنے والے ہیں اب اپنا کیا ہوا وعدہ پورا کیجیے۔ حضرت عمرؓ ہرمزان کی ذہانت سے قدرے متاثر ہوئے اور فرمایا کہ فی الحال تمہیں قتل نہیں کیا جائے گا تمہارے بارے میں مزید غور و فکر کیا جائے گا۔
اس فیصلے کو سن کر ہرمزان نے فوراََ کلمہ پڑھا اور مسلمان ہوگیا۔
حضرت عمرؓ نے پوچھا یہ تو بتاؤ جب میں نے تمہیں اسلام کی دعوت دی تھی تب تم نے اسلام قبول کیوں نہ کیا؟
ہرمزان نے جواب دیا کہ مجھے اس بات کا ڈر تھا کہ اگر میں اس وقت اسلام قبول کرتا تو میرے بارے میں لوگ کہتے کہ ہرمزان نے موت سے گھبرا کر اسلام قبول کر لیا ہے۔
حضرت عمر فاروقؓ نے اس کی بات سن کر فرمایا۔
”اہل فارس کی عقلیں پہاڑوں جیسی ہیں۔“
مطلب یہ کہ اہلِ فارس بڑے عقل مند و دانا ہیں۔ ان کی عقل اور سمجھ پہاڑوں جیسی عظیم اور مستحکم ہے۔
آج ایران اسرائیل جنگ کے واقعات شروع سے لے کر آخر تک پوری دنیا کے سامنے ہیں۔ کبھی کسی نے سوچا بھی نہیں تھا کہ ایران جیسا ملک اسرائیل کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کھڑا ہوگا۔ اسرائیل جو خود کو ناقابلِ تسخیر سمجھتا تھا اس کی جدید ٹیکنالوجی اور جدید دفاعی نظام ایران کے سامنے ریت کا ڈھیر ثابت ہوں گے۔ اس جنگ میں نہ صرف صیہونیوں کا غرور خاک میں مل گیا بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی اسرائیل کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ اسرائیل جو کسی کو خاطر میں نہ لاتا تھا آج نہ صرف دفاعی لحاظ سے بلکہ معاشی طور پر بھی انتہائی غیرمستحکم ہوچکا ہے۔ ایرانی فوج اور پاس دارانِ انقلاب کے جوانوں نے اپنی جنگی حکمت عملی، غیرمعمولی ذہانت اور پہاڑوں جیسے مضبوط حوصلے اور جرأت سے اسرائیل اور صیہونیوں کی اینٹ سے اینٹ بجا کر رکھ دی۔ حکمتِ عملی، ذہانت، سمجھ داری، دانائی اور مضبوط قوتِ ارادی گویا ایرانیوں کی گھُٹی میں شامل ہے۔
Latest Posts
