دس محرم الحرام معرکہء حق و باطل

تحریر: اللہ رکھا تبسم، میاں چنوں
اسلام کو ایک نئی روح اور دوام واقعہ کربلا کے بعد ملا ہے۔شعائر اسلام کا مذاق اڑایا جا رہا تھا۔ حضرت امام حسن علیہ السلام کی شہادت کے بعد خلافت کا خاتمہ ہوگیا۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے خلافت کے بجائے ملوکیت کی بنیاد رکھی۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور میں اسلام کا دائرہ کار کافی زیادہ پھیلا مگر مسلمانوں کے باہمی اختلافات کی وجہ سے اسلام کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد یزید نے عنان اقتدار کے نشے میں اخلاقیات کی تمام حدیں پار کردیں۔ بہت سے علاقوں سے اس نے لوگوں سے زبردستی بیعت کروائی۔ مدینہ منورہ میں یزید کے خلاف سخت نفرت اور غم و غصہ پیدا ہوا۔ چنانچہ حضرت امام حسین علیہ السلام نے اپنے اہل و عیال اور دیگر رفقاء کار کے ساتھ یزید کے خلاف علم بغاوت بلند کیا۔ امام حسین علیہ السلام کسی صورت بھی یزید کی بیعت کرنے کے لیے تیار نہ تھے۔ یزید لعین کے اندر تمام برائیاں بدرجہ اتم موجود تھیں۔ وہ شراب خور تھا اسے رشتوں کے تقدس کا کوئی خیال نہیں تھا۔ بالخصوص اسلام کی باگ ڈور سنبھالنے کی کسی صورت بھی اس میں اہلیت نہ تھی۔ اہل بیت کس طرح یزید کے کالے کرتوتوں کے ساتھ اس کی بیعت پر راضی ہو سکتے تھے؟ چنانچہ حضرت امام حسین علیہ السلام نے اپنے خاندان کے ساتھ 72 نفوس پر مشتمل ایک قافلے کی کمان سنبھالتے ہوئے یزید کے خلاف نکل پڑے۔ آپ علیہ السلام کو مدینہ منورہ سے روانہ ہوکر کربلائے معلیٰ تک پہنچتے پہنچتے بے شمار صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں۔ حضرت امام حسین علیہ السلام کا قافلہ ایک جگہ آکر رک گیا، آپ نے پوچھا یہ کون سی جگہ ہے؟ جواب ملا۔ یہ کربلا کا مقام ہے۔ آپ علیہ السلام نے قافلے کو رکنے کا حکم دیا اور آپ نے فرمایا ہمارا پڑاؤ اسی جگہ ہوگا۔ آپ علیہ السلام کو کرب و بلا کا نقشہ خواب کے ذریعے پہلے ہی بتا دیا گیا تھا کہ اسی جگہ معرکہء حق وباطل ہوگا۔ کربلا کے مقام پر خیمے لگا دیے گئے۔ یزید نے حضرت امام حسین علیہ السلام کے خلاف ابن زیاد کی قیادت میں لشکر تیار کیا اور کربلا میں دونوں لشکروں کا آمنا سامنا ہوا۔ ابن زیاد بدبخت نے خان وادہ ء نبوت کے لیے پانی تک بند کر دیا۔ جب خاندان نبوت کے بچوں کے لیے حضرت عباس علم دار علیہ السلام دریائے فرات سے پانی لینے گئے۔ جس ہاتھ میں انہوں نے پانی کی مشک اٹھائی ہوئی تھی اس ہاتھ کو کندھے سمیت تلوار سے جدا کر دیا گیا، آپ نے دوسرے ہاتھ میں مشک پکڑی، ظالموں نے اس ہاتھ کو بھی قطع کر دیا، آپ نے مشک منہ سے پکڑ لی مگر تیر مار کر مشک میں سوراخ کر دیا جس سے پانی مشک سے نکل گیا اور آپ خالی خیموں کی طرف لوٹے۔ حضرت عباس علم دار علیہ السلام جس کا مطلب بپھرا ہوا شیر ہے۔ آپ علیہ السلام نے اپنے بھائی حضرت امام حسین علیہ السلام کی رفاقت کا حق ادا کر دیا۔ آپ علیہ السلام جواں مردی سے یزیدی لشکر کو واصل جہنم کرتے گئے اور لاتعداد یزیدیوں کا قلع قمع کیا اور 8 محرم الحرام کو جام شہادت نوش فرمایا۔ جب 10 محرم الحرام کی صبح ہوئی حضرت امام حسین علیہ السلام نے اپنے بڑے بیٹے حضرت علی اکبر علیہ السلام کو اذان دینے کا کہا انہوں نے اذان دی اور آپ نے نماز فجر کی امامت فرمائی۔ یزیدی لشکر ہر حالت میں حضرت امام حسین علیہ السلام سے یزید کی بیعت لینے پر تلا ہوا تھا یا پھر آپ کا سر چاہتا تھا۔ یزیدی لشکر میں شامل حضرت حر رضی اللہ عنہ نے آخری وقت میں حضرت امام حسین علیہ السلام سے معافی مانگی اور آپ کے لشکر میں شامل ہوکر جام شہادت نوش فرمایا۔ عصر کی نماز تک حضرت امام حسین علیہ السلام کے بھانجے، بھتیجے شہید ہوچکے تھے۔ 18 سال کے کڑیل جوان حضرت علی اکبر علیہ السلام جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تصویر تھے ان کو بھی شہید کر دیا گیا۔ 6 ماہ کا معصوم حضرت علی اصغر علیہ السلام کے گلے میں ظالموں نے تیر مار کر شہید کر دیا۔ صرف حضرت امام زین العابدین علیہ السلام جو بیمار تھے اور خیمے میں رہ گئے تھے۔ باقی تمام حسینی ایک ایک کر کے جام شہادت نوش کرتے گئے۔ حضرت امام حسین علیہ السلام کو یزیدی لشکر نے گھیر لیا، آپ علیہ السلام نے نماز عصر ادا کرنے کی مہلت مانگی، اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ ریز ہوگئے اور اللہ رب العزت کا شکر ادا کیا کہ اس نے اس آزمائش سے ان کو سرخرو فرمایا۔ سجدے کی حالت میں شمر لعین نے آپ کا سر تن سے جدا کر دیا۔ دنیا نے دیکھا کہ آپ علیہ السلام کا سر نیزے کی نوک پر بھی تلاوت قرآن مجید کر رہا تھا۔
معزز قارئین کرام! معرکہ ء کربلا کوئی عام معرکہ نہیں تھا یہ معرکہء حق وباطل تھا۔ حضرت امام حسین علیہ السلام نے 72 تن شہید کروا دیے مگر یزید پلید کی بیعت قبول نہ کی۔ آپ علیہ السلام نے اسلام کو زندہ کر دیا۔ اگر آج اسلام ہمارے پاس موجود ہے تو یہ اہل بیت کی دی ہوئی قربانی اور خیرات کا تصدق ہے۔ ہمیں معرکہء حق وباطل کو سامنے رکھتے ہوئے یزیدیت سے بریت اختیار کرنا ہو گی اور حسینیت کو اپنا کر اپنی دنیا و آخرت سنوارنی چاہیے۔ یہی حسینیت کا پیغام ہے۔
شاہ است حسین
بادشاہ است حسین
دین است حسین
دین پناہ است حسین
سر داد، نہ داد دست
در دست یزید
حقا کہ بنائے لا الہ است حسین

About daily pehchane

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow