از قلم : شاہی
بارگاہِ ربِ ذوالجلال میں رضا کے تین مدارج ہیں، اور یہ تینوں مقامات ان اہلِ دل کے نصیب میں آتے ہیں جو عشقِ الٰہی کی بھٹی میں تپ کر کندن بن چکے ہوں، جن کے دل میں رضا کی چنگاری شعلہ بن کر دہک رہی ہو، اور جن کی پیشانی پر تسلیم و رضا کا نور جھلکتا ہو۔
پہلا درجۂ رضا:
جب بندہ جانتا ہو کہ تقدیر کی گھڑی قریب ہے، آزمائش آ رہی ہے، مصائب کے بادل چھا رہے ہیں، اور چاہے تو اپنے اختیار سے اس طوفان کو ٹال سکتا ہے، لیکن پھر بھی وہ ربِ ذوالارادہ کی مشیت پر سرِ تسلیم خم کر دے، اپنی مرضی کو فنا کر دے اور تقدیر کے ہر نقش کو آنکھوں کا سرمہ بنا لے۔
دوسرا درجۂ رضا:
جب مصیبت سراپا وجود بن کر سامنے آ کھڑی ہو، آزمائش نے آغوش میں لے لیا ہو، دنیا تاریک، افق ویران، اور حالات ناسازگار ہوں، مگر دل کی دنیا میں اطمینان کی بادِ نسیم چلتی رہے، زبان پر حرفِ شکایت نہ آئے، اور آنکھوں میں صبر کی روشنی باقی رہے۔
تیسرا اور ارفع ترین درجۂ رضا:
جب سب کچھ خاک میں مل جائے، عزیز لٹ جائیں، دامن اجڑ جائے، کلیاں مسل دی جائیں، اور بزمِ حیات اُجڑ جائے، لیکن پھر بھی دل میں رب کی رضا کا چراغ روشن رہے، اور وجود میں صبر و سکون کی صدا گونجتی رہے۔
یہ وہ مقام ہے جہاں فرشتوں کے پر جلتے ہیں، جہاں عارفین کی نگاہیں جھک جاتی ہیں، اور جہاں اولیاء اللہ کے قدم لرز جاتے ہیں۔ مگر اسی مقامِ رضا پر میرے امام، سردارِ قافلۂ کربلا، محبوبِ زہراء، مظہرِ صبر و تسلیم، حضرت امام حسین ابنِ علی علیہ السلام بامِ عروج پر فائز ہیں۔
لوگ کربلا کو کئی ایک تناظر سے دیکھتے ہیں، لیکن ہم آج کربلا کو “مقامِ رضائے حسین علیہ السلام” کی آنکھ سے دیکھتے ہیں۔
میرے آقا حسین علیہ السلام اس درجۂ ولایت پر فائز تھے جہاں بندہ اپنی چاہت کو رب کی رضا میں ڈھال دیتا ہے، اور اس کے لبوں سے فقط “اللہم رِضا بِرِضائک” کی صدا بلند ہوتی ہے۔
پہلا درجۂ رضا:
امام عالی مقام علیہ السلام پر حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں تھی کہ اگر وہ کوفہ کی سرزمین پر قدم رکھیں گے تو معاذاللہ شہادت ان کا مقدر بنے گی۔ اگر چاہتے تو یہ سفر روکا جا سکتا تھا، مگر محبوبِ خدا کی رضا کے مقابل اختیار کی کوئی حیثیت نہ تھی۔ امام علیہ السلام راضی برضا ہو کر کوفہ کی سمت روانہ ہوئے۔یہ پہلا درجۂ رضا ہے، جس پر امام حسین علیہ السلام نے نہ صرف قدم رکھا بلکہ اس میں ثبات و استقامت کی ایسی مثال قائم کی جو رہتی دنیا تک رہنمائی کرتی رہے گی۔
دوسرا درجۂ رضا:
جب آسمان پر ظلم کے بادل چھا گئے، کوفیوں نے پانی بند کر دیا، لشکرِ یزید نے خیموں کو محاصرے میں لے لیا، معصوم بچے پیاس سے تڑپنے لگے، ماؤں کی گودیں خالی ہونے لگیں، مگر آقا حسین علیہ السلام کے چہرۂ انور پر سکون کی ایسی چمک تھی گویا وہ کسی بزمِ وصال میں جلوہ گر ہوں۔
دل میں رب کی رضا کی ایسی لذت تھی کہ فقر میں بھی شاہی محسوس ہوتی تھی۔ یہ دوسرا درجۂ رضا ہے، جس پر امام علیہ السلام پورے عزم اور جلال کے ساتھ فائز رہے۔
تیسرا اور معراجِ رضا:
کربلا کے میدان میں وہ ساعتیں آئیں جب لختِ جگر، جگر کے ٹکڑے، آنکھوں کی ٹھنڈک ایک ایک کر کے قربان ہوتے گئے۔
علی اصغر علیہ السلام کو جب ظالموں نے پیاس کی شدت میں تڑپتا ہوا تیرِ ظلم سے چھلنی کر دیا، نازک کلی کو امام علیہ السلام کے ہاتھوں میں شھید کر دیا گیا، لیکن آسمان گواہ ہے کہ امام حسین علیہ السلام کی آنکھوں سے ایک قطرۂ اشک نہ گرا۔پھر جوان بیٹے، شبیہِ مصطفیٰ، علی اکبر علیہ السلام کی باری آئی۔ جب اکبر میدان میں اُترے، لبوں پر اذانِ عشق تھی، اور جب نیزہ ان کی گردن میں پیوست ہوا، انہوں نے پکارا:
“اَلسلَامُ عَلَیکَ یَا اَبَتَاهُ”
امام حسین علیہ السلام بیٹے کی لاش لینے پہنچے، نیزہ گردن سے نکالا، اور جوان بیٹے کی روح پرواز کر گئی۔ تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ جب آپ اکبر کو لینے گئے تو سر اور داڑھی کے بال سیاہ تھے، اور جب واپس لوٹے تو غم کی شدت نے چند لمحوں میں بالوں کو سفید کر دیا لیکن دیکھو! عالمِ غم کا یہ سماں کہ سب کچھ اُجڑ گیا، مگر لب خاموش، آنکھوں میں آنسو نہیں، دل مطمئن، زبان پر صبر و رضا کا کلمہ، اور آنکھوں میں عشقِ الٰہی کا نور باقی رہا۔
یہ ہے ربِ ذوالجلال کی بارگاہ میں رضا کا وہ درجہ جہاں سب کچھ قربان کرنے کے بعد بھی بندے کا دل تسلیم و رضا کی لذت میں ڈوبا رہتا ہے۔اسی لیے کہا جاتا ہے، مقامِ رضائے الٰہی پر فائز ہونا آسان نہیں، اور اس پر قائم رہنا اس سے کہیں زیادہ دشوار ہے، مگر کربلا نے سکھا دیا کہ امام حسین علیہ السلام نے اس مقام پر وہ نقوش چھوڑے ہیں جو رہتی دنیا تک ایمان والوں کے لیے چراغِ راہ بنے رہیں گے۔
