نصیر احمد بھلی (سیالکوٹ)
جب بھی محرم الحرام کا مہینہ آتا ہے تو فضا غم زدہ سی ہو جاتی ہے، آنکھیں پر نم سی ہو جاتی ہیں، ہم سب کی زبان پر ذکر حسینؓ جاری ہو جاتا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا محرم الحرام کا پیغام صرف اور صرف آنسو بہانے تک ہی محدود ہے؟یا یہ ایک ایسی صدا ہے جو ہمیں جھنجھوڑتی ہے کہ اپنے آپ کو حسینیت کے پیروکار اور دعویٰ دار ہونے کے ناطے ہم اپنی ذات، اپنے معاشرے اور اپنے رویوں اور کردار پر بھی نظر ثانی کریں؟ محرم الحرام اور واقعہ کربلا ہمیں صرف اکیلے ماضی کی طرف جھانکنے کے لیے نہیں کہتا بلکہ ساتھ ساتھ اپنے حال اور مستقبل کے بارے تدبر اور فکر کرنے کی دعوت بھی دیتا ہے۔
خود احتسابی کا آغاز:
نواسۂ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت امام حسینؓ نے میدانِ کربلا میں ہمیں ایک بہت منفرد اور اہم درس دیا کہ انسان کوسب سے پہلی جنگ خود اپنے آپ سے لڑنا ہوتی ہے۔ یہ جنگ اپنے نفس سے،اپنی خواہشات سے،اپنی ظاہری و باطنی کمزوریوں سے،اپنے دل میں پرودی گروہی ومسلکی اور صوبائییت کے تعصبات سے
محرم الحرام تو ہمیں یہ بھی کہتا ہے کہ اپنے اندر کی نفرتوں اور کدورتوں کو قتل کرو،اپنے اندر چھپے یزیدی رویوں کو مٹا دو۔اپنے کردار وعمل سے طرزِ حسینؓ اپناؤ، صرف زبان سے نہیں۔حسینؓ بننے کے لیے یزید کی ضد، غرور، خود پرستی اور خود غرضی کو خود سے ہم سب کو بحیثیت مجموعی جدا کرنا ہوگا۔
معاشرتی اصلاح: محرم کا بھولا ہوا پیغام:
ہم ماہ محرم الحرام میں مجالس میں یہ ذکر کرتے ہیں کہ حضرت حسینؓ ظلم کے خلاف اٹھے لیکن کیا ہم اپنےارد گرد ظلم کے باطل نظام کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں؟ذرا سوچیے کہ جب ہم بحیثیت پاکستانی اور بحیثیت مسلمان کرپشن پر خاموش رہتے ہیں، تو کیا ہم واقعی حضرت امام حسینؓ کے ساتھ ہیں؟ جب ہم حق داروں کا حق مارنے والوں کا جانتے بوجھتے ہوئے بھی ساتھ دیتے ہیں، تو کیا ایسا کرتے ہوئے کبھی لمحہ بھر کے لیے ہی سہی ہم سب نے یہ سوچنے کی زحمت گوارا کی کہ کیا ہم بھی حسینی ہیں؟جب ہم جھوٹ، دھوکہ، فراڈ، اقرباء پروری، مظلوم پر ظلم اور ناانصافی پر خاموشی اختیار کرتے ہیں، تواس لمحے کیا ہم کربلا کی تعلیمات پر عمل کر رہے ہیں؟
محرم الحرام ہمیں بتاتا ہے کہ معاشرہ کے ہر ظلم کے خلاف کھڑا ہونا ہی حسینیت ہے۔یہ صرف کربلا کا قصہ سنانے کا مہینہ نہیں بلکہ اپنے ارد گرد کی کربلاؤں کو پہچاننے کا بھی وقت ہے۔
اتحاد: جذبات سے عمل کی طرف،ہم ہر سال اتحاد و اخوت کی باتیں تو کرتے ہیں، مگر عمل میں تفرقہ، تعصب جانبداری جھوثی ضد اور انا ہی چھلکتی ہے۔ہم محرم الحرام کے جلوس میں دوسرے فرقے کا راستہ بند کر دیتے ہیں۔ہم مجالس میں دوسرے نظریات کا مذاق اڑاتے ہیں۔ہم خود کو جنتی، دوسروں کو گمراہ قرار دیتے ہیں۔ذرا اپنے اذہان وقلوب کو جھنجھوڑ کر بتائیے کہ یہ کس حسینؓ کا پیغام ہے؟
حضرت امام حسینؓ تو وہ ہیں جنہوں نے دشمن کو بھی آخری لمحے تک پکارا،” آؤ، تمہارے لیے معافی کا دروازہ کھلا ہے۔“
حضرت امام حسینؓ کا اتحاد میرے اور آپ کی طرح صرف تقریری اتحاد نہیں تھا، وہ عملی اتحاد تھا، وہ دلوں کا جوڑنے والا تھا۔وہ محبتیں بانٹتے والا اتحاد تھا ۔آج کی کربلا خاموشی کی کربلا٫ آج کربلا ظلم کے میدانوں میں نہیں، خاموش ضمیروں میں برپا ہے۔جب ہم حق کے سامنے چپ ہو جاتے ہیں۔جب ہم دوسروں پر ظلم ہوتے دیکھ کر منہ موڑ لیتے ہیں۔جب ہم اپنی چھوٹی چھوٹی مسلکی دیواروں کے پیچھے چھپ جاتے ہیں۔
محرم ہمیں پیغام دیتا ہے کہ حسینی بننے کے لیے باطل کے خلاف کھڑا ہونا ضروری ہے۔محرم الحرام ایک تحریک ہے۔محرم الحرام ایک سالانہ اجتماع نہیں، یہ ایک زندہ تحریک ہے۔یہ ہماری سوچ بدلنے کی تحریک ہے۔یہ معاشرتی و سماجی اصلاح کی تحریک ہے۔یہ دلوں کو محبت اور انس سے جوڑنے کی تحریک ہے۔یہ مظلوم کے حق میں ظلم کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کی تحریک ہے۔قارئین محترم! اگر ہم نے محرم الحرام کے اصل پیغام کو فہم وادراک سےسمجھا تو یقیناً ہماری زندگی بدل جائے گی۔اگر ہم نے صرف روایتی رسمیں ہی نبھائیں تو ہم صرف محرم الحرام کے تماشائی بن کر رہ جائیں گے۔آئیے! اس محرم میں صرف یاد نہ کریں، عمل بھی کریں۔ صرف ذکر نہ کریں، اپنی ذات کو بھی حسینی بنائیں۔ صرف باتیں نہ کریں، حقیقت میں امت کو جوڑیں۔یہی حضرث امام حسینؓ کا اصل پیغام ہے۔ یہی محرم الحرام کی حقیقی روح ہے۔آئیں رواں ماہ محرم الحرام میں ہم عہد کریں کہ ہم تفرقہ بازیوں میں الجھنے کی بجاۓ معاشرہ میں امن اتحاد و یگانگت اور محبتیں بانٹیں گے اور وطن عزیز پاکستان میں فرقہ ورانہ نفرتوں اور کدورتوں کو اپنے حسینی کردار وعمل سے بین المسلمین ہم آہنگی کو فروغ دینے میں اپنا کردار ادا کرنے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھیں گے۔ ان شاءاللہ!
Latest Posts
