زندگی: تقدیر یا تماشا؟

نام: اقراءشہزادی
زندگی ایک ایسا راز ہے جو ہر پل بدلتا ہے، ہر لمحہ نیا رنگ دکھاتا ہے۔ کبھی یہ سکون کی آغوش میں لوری دیتی ہے، تو کبھی درد کی لہروں میں غرق کر دیتی ہے۔
زندگی کیا ہے؟ سنور گئی تو تقدیر اور بکھر گئی تو تماشا۔
یہ جملہ گویا زندگی کی پوری حقیقت کا خلاصہ ہے۔ جب زندگی ہمارے اختیار میں محسوس ہوتی ہے، جب سب کچھ منصوبے کے مطابق چل رہا ہو، تب ہم اسے تقدیر کہہ کر مان لیتے ہیں۔ سکون خوشی کامیابی یہ سب ہمیں تقدیر کی عنایت لگتے ہیں لیکن جب حالات ہمارے بس سے باہر ہو جائیں جب خواب بکھر جائیں رشتے ٹوٹ جائیں یا ہمیں وہ نہ ملے جس کے ہم مستحق تھے تو لوگ ہمیں تماشا بنا دیتے ہیں۔ سوالات طعنے فقرے اور الزامات اور اپنے رشتے دار اور غیر لوگ سب ایک تماشائی کی طرح ہماری زندگی کا تماشا دیکھتے ہیں، جیسے ہم کوئی داستانِ عبرت ہوں۔زندگی بظاہر ایک کھیل ہے لیکن اس کھیل کے کھلاڑی ہم خود ہوتے ہیں۔ کبھی جیت ہماری ہوتی ہے تو کبھی ہار مقدر۔ اصل کمال یہ ہے کہ چاہے تقدیر سنائے یا دنیا تماشا بنائے، ہم اپنی حقیقت نہ بھولیں کیوں کہ زندگی وہی ہے جو اندر سے جینے کا حوصلہ دے، نہ کہ وہ جو باہر والوں کو دکھائی دے۔ زندگی اگر سنبھل جائے تو نعمت ہے، اور بکھر جائے تو نصیحت ہے۔

About daily pehchane

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow