
تاثرات : اکبر علی شاہد
148 صفحات کی خواب در خواب 46 دو دو تین تین صفحات کے افسانوں پر مشتمل کتاب ہے۔ مختصر تحاریر پسند کرنے والوں کے لیے بہترین تحفہ ہے۔مصنف نے کتاب کا عنوان خواب در خواب رکھا لیکن اگر یہ کتاب میری ہوتی تو میں اس کتاب کا نام ان کے افسانے دھندلے خواب یا درد کا سفر پر رکھتا۔کتاب کا انتساب بہت منفرد اور دل کو چھو لینے والا ہے۔
لکھتے ہیں:
ان ادھورے خوابوں کے نام!
جو خواہش بن کر دل میں جاگے مگر کبھی پورے نہ ہو سکے۔
ان بچھڑے لمحوں کے نام!
جو پلکوں پر آنسو بن کر ٹھہرے مگر کسی کو محسوس نہ ہوئے ۔
اس درد کے نام!
جو نہ کہا جا سکا، نہ سہا جا سکا بس خاموشی کی چادر میں لپٹ کر دل میں دفن ہو گیا۔
واہ کیا غضب کا انتساب یے۔
مصنف کے پیش لفظ کا ایک ایک لفظ پڑھنے لائق ہے، الفاظ نہیں ہیں جذبات ہیں جو کاغذ پر ٹانک دیے گئے ہیں۔
مصنف کے افسانوں میں فلسفیانہ اور شاعرانہ رنگ نمایاں محسوس ہوا، جہاں منظر نگاری اور جزیات نگاری نے خوب سماں باندھے رکھا۔
کرداروں کی نفسیات بہت گہرائی سے بیان کی گئی ہو گویا وہ ہر کردار میں خود موجود رہے ہوں۔جناب ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی لکھتے ہیں کہ اسحاق علی شاذ کا یہ مجموعہ اردو فکشن میں ایک منفرد مقام کا حق دار ہے یہ افسانے قاری کو خواب و حقیقت کی اس دنیا میں لے جاتے ہیں جہاں سوال تو پیدا ہوتے ہیں مگر جواب ہمیشہ ادھورے رہتے ہیں۔میرے ذہن میں بھی کتنے ہی سوال ابھرتے رہے ڈوبتے رہے کچھ افسانوں کے مبہم سے اختتام نے بہت بے چین کیا۔ ممکن ہوتا تو مصنف کے ساتھ نشست رکھ کر اپنے ہر سوال کا جواب لیا جاتا۔
الزبہ مقرب خان صاحبہ لکھتی ہیں” اس مجموعہ میں شامل چند افسانوں کا مطالعہ کرنے کے بعد مجھے یوں محسوس ہوا کہ” خواب در خواب “ فقط ایک افسانوی مجموعے کا نام نہیں بلکہ مصنف کی زندگی کے ہر نئے خواب کی ایک نئی کہانی ہے جس نے ایک طویل سفر طے کرنے کے بعد بالآخر ایک کتابی شکل اختیار کر کے اپنی تعبیر کو پانے کی کوشش کی ہے۔“
ان کے تجزیہ کی داد بنتی ہے ۔
ساجدہ امیر نے بھی بہت خوبصورت رائے دی۔
کچھ افسانے افسانچہ معلوم ہوئے، ان کے انجام غیر متوقع اور اچانک تھے۔ جیسے جسمانی حرارت۔ کچھ افسانے ہمارے معاشرے پر ہمارے ملکی نظام پر گہری چوٹ ثابت ہوئے مثلاً پھول مرجھا گیا، بے نام،عزت کا بوجھ، ڈیجیٹل دور کا خواب۔
پارسا افسانے نے چند لمحوں کو تنفس روک دیا یا اللہ کسی کی بیٹی ایسی نہ ہو۔ آمین!
” قیمت“ افسانے نے ایک بار رونگٹے کھڑے کر دئیے والدین اپنی اولاد کے لیے کیا کیا کر گزرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔
افسانہ” دھندلے خواب“ نے افسردہ کر دیا، بہنوں کے مرنے کے بعد ان کے شوہروں کے ساتھ چھوٹی بہنوں کو بیاہے جانے کی سوچ اب بہت بوسیدہ لگتی ہے کاش لوگوں کو شعور آ جایے ۔
” وقت کی دہلیز پر “ایک افسوس سا ہوا یہ صائمہ نے اتنا وقت کیوں ضائع کیا اسے بہت پہلے آگے بڑھ جانا چاہیے تھا یہ محبت ہی ہے جو ہمیں انتظار کی سولی پر برسوں لٹکائے رکھتی ہے۔
کچھ علامتی افسانے ٹھہرے جیسے گمشدہ لمحے، نشے کی آخری حد، ٹوٹے ہوئے خوابوں کا سفر، موتی، خواب در خواب، فیصلہ، وقت کا وعدہ۔
” لفظوں میں قید اذیت “
شاذ کا دکھ اس کی اذیت اپنی اذیت معلوم ہوئی کہ ہم بھی تو لکھاری ہیں سب لکھاریوں کا درد ایک سا ہوتا ہے۔” پیٹ کی آگ قلم کی سیاہی سے نہیں بجھتی “
اف کیسا کاٹ دار جملہ لکھ ڈالا شاذ صاحب نے۔
” اردو بازار کی جلتی راتیں “ دوغلے معاشرے اور منافق مردوں کے چہرے پر ایک تمانچہ محسوس ہوا۔
افسانہ” نصیحتیں “ کم عمری میں بچیوں کی شادی کے خلاف ایک احتجاج ہے۔ زہرا کے انجام سے دل دکھی ہو گیا۔
شاذ صاحب کا قلم توانائی سے بھر پور ہے، امید کرتا ہوں وہ یونہی تندہی سے قلم کے جوہر دکھاتے رہیں گے ۔ ان شا اللہ!
Latest Posts
