اصلاحات یا دکھاوا؟ خیبر پختونخوا میں حقیقی تبدیلی کہاں ہے

حالیہ دنوں میں خیبر پختونخوا حکومت کا گاڑیوں کی رجسٹریشن سے متعلق نیا فیصلہ سوشل میڈیا پر ہر طرف موضوعِ گفتگو بنا رہا۔ ہر پلیٹ فارم پر یہی جملہ گونجتا نظر آیا کہ “کے پی کے یہ نیا سسٹم لانے جا رہا ہے جس میں گاڑی کا نمبر شہری کی ذاتی ملکیت ہوگا”۔ یہ خبر تیزی سے وائرل ہوئی اور بہت سے لوگ اسے ایک جدید اور سہل اقدام کے طور پر دیکھتے رہے۔ اس نظام کے مطابق گاڑی بیچنے کے باوجود نمبر پلیٹ آپ کی اپنی رہے گی، بالکل ایسے جیسے شناختی کارڈ یا موبائل نمبر زندگی بھر آپ کی شناخت بنتے ہیں۔بظاہر یہ فیصلہ سہولت پیدا کرنے والا لگتا ہے، مگر اس کے ساتھ ہی صوبے کے عوام کے ذہنوں میں یہ سوال بھی شدت سے اٹھ کھڑا ہوا کہ آخر اس وقت اصل ضرورت کیا تھی؟ کیا واقعی خیبر پختونخوا کے عوام کے مسائل اتنے مختصر ہو چکے ہیں کہ اب نمبر پلیٹ کا مالک کون ہے، یہ سب سے اہم سوال بن جائے؟یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا جب عوام کا ایک بڑا طبقہ اپنی روزمرہ کے بنیادی مسائل سے نبرد آزما ہے۔ مہنگائی، روزگار، صحت، تعلیم، انفراسٹرکچر—ہر شعبہ چیخ چیخ کر توجہ مانگ رہا ہے مگر حکومتی ترجیحات ہمیشہ کچھ اور ثابت ہوتی ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے اصل مسائل پسِ پشت ڈال کر نئی بحثیں چھیڑ دی جاتی ہیں، تاکہ لوگوں کی نگاہیں وقتی طور پر موضوع بدل لیں۔اسی پس منظر میں پشتو کی ایک پرانی اور نہایت معنی خیز کہاوت یاد آتی ہے۔ “میں تو اُس کی ناک کاٹنے پر آمادہ ہوں اور وہ نئے سونے کے نتھ کی فکر میں ہے”. اصل مسئلہ کچھ اور ہوتا ہے مگر توجہ بلکل غیر ضروری چیز کی طرف کر دی جاتی ہے۔ بالکل اسی کیفیت کو بیان کرنے کے لیے یہ محاورہ آج بھی زندہ ہے. یعنی مسئلہ سنگین اور فوری نوعیت کا ہے، مگر دوسرا شخص ایسی چیز کی فکر میں ہے جس کا نہ وقت ہے نہ ضرورت۔ یہی مثال خیبر پختونخوا کی موجودہ صورتحال پر پوری طرح صادق آتی ہے۔اگر صوبے کے مختلف علاقوں کی طرف نظر دوڑائی جائے تو ایک لمبی فہرست سامنے آتی ہے جہاں بنیادی سہولتیں برسوں سے ادھوری ہیں۔ بہت سے بد قسمت علاقے ایسے ہیں جنہیں ترقی کے نام پر صرف وعدے ملے، عملی کام بہت کم ہوا۔ مسائل کے انبار کے باوجود حکومتی ترجیحات ہمیشہ ثانوی نوعیت کے کاموں کے گرد گھومتی رہتی ہیں۔
کچھ سال پہلے سلارزئی جوڑ کا رورل ہیلتھ ہسپتال کی پرانی عمارت کو گرا دیا گیا، اور یہ سمجھ کر کہ اسے نیا، جدید ہسپتال بنایا جائے گا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ نیا تعمیر کرنا تو دور کی بات، پرانا جو عمارت تھا، کم از کم کُندر سے تو بہتر تھا۔ کافی عرصے سے یہ گرا کر کُندر پر پڑا ہے، اور اس دوران دیگر سہولیات کے حوالے سے بھی شدید خلاء پیدا ہو گیا ہے۔ دوسری جانب پورے سلارزئی کے لوگ یہاں علاج کے لیے آتے ہیں، اور خوش قسمتی یہ ہے کہ کم از کم پوری ہسپتال کو مکمل طور پر نہیں گرا دیا گیا بلکہ صرف ایک طرف کا حصہ گرا۔ اب بھی دوسری طرف پرانی عمارت کے ساتھ وہی جدوجہد جاری ہے، پرانی مشکلات کے ساتھ چل رہی ہے، اور لوگ بنیادی علاج کے لیے صبر و تحمل کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔یہ ہسپتال صرف ایک عمارت نہیں، بلکہ پورے نظام کی بے حسی کی علامت بن چکا ہے۔ ہر الیکشن میں وعدے کیے جاتے ہیں کہ اب کی بار اسے فعال کر دیا جائے گا، مگر الیکشن کے بعد وہی خاموشی، وہی لاپرواہی، وہی ویرانی۔ اس صورتحال نے لوگوں کے دلوں میں مایوسی کے سائے گہرے کر دیے ہیں. پوری دنیا ترقی کی دوڑ میں آگے بڑھ رہی ہے مگر ہمارے کچھ علاقے آج بھی بنیادی علاج کے انتظار میں کھڑے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ حکومتیں بدلتی رہتی ہیں مگر عوام کا نصیب نہیں بدلتا۔ وہی پرانی مشکلات، وہی پرانے بہانے اور وہی ادھورے وعدے ہر بار سامنے آ جاتے ہیں۔یہ صورتحال اس وقت اور بھی نمایاں ہو جاتی ہے جب ہم اسے پنجاب کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔ وہاں مریم نواز صاحبہ ایک فعال اور مسلسل سرگرم انداز میں ہر محکمے کا جائزہ لیتی نظر آتی ہیں۔ چاہے وہ صحت ہو، تعلیم ہو، انفراسٹرکچر ہو یا سوشل سروسز—کم از کم کام ہوتا تو نظر آ رہا ہے۔ کوئی نہ کوئی منصوبہ، کوئی نہ کوئی عملی پیش رفت، عوام کی آنکھوں کے سامنے موجود ہے۔
اس کے مقابلے میں خیبر پختونخوا میں ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ہم برسوں سے ایک ہی جگہ کھڑے ہیں۔ یہاں بحثیں زیادہ ہوتی ہیں، مگر عملی نتائج تقریباً نہ ہونے کے برابر ہیں۔ حکومتیں بدلتی ہیں مگر سوچ وہی رہتی ہے۔ ہر آنے والا یہی پیغام دیتا ہے کہ “کام چلتے رہیں گے، بس فلاں لیڈر رہا کرو”۔ یہ باتیں اپنی جگہ مگر عملی کارکردگی کہاں ہے؟پندرہ سال سے ایک ہی جماعت کو موقع ملا۔ عوام اب یہ سوال پوچھتی ہے کہ آخر کیا بدلا؟ کون سا ایسا شعبہ ہے جو مثال بن سکا؟ کون سا وہ مسئلہ ہے جو مکمل طور پر ختم ہوا؟ حقیقت یہ ہے کہ خیبر پختونخوا کے بہت سے علاقے وہیں کھڑے ہیں جہاں ایک دہائی پہلے تھے۔ ترقی کا شور تو بہت ہے مگر زمین پر تبدیلی کم دکھائی دیتی ہے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ خیبر پختونخوا کے لوگ بے حد محنتی، باشعور اور صابر ہیں۔ وہ کسی سیاسی جماعت سے دشمنی نہیں رکھتے، وہ صرف اپنے بنیادی حقوق چاہتے ہیں۔ سڑکیں، سکول، ہسپتال، پانی، روزگار۔ یہ کسی حکمران پر احسان نہیں بلکہ شہریوں کا حق ہیں۔مگر بدقسمتی سے یہی بنیادی حقوق ہمیشہ مؤخر کیے جاتے ہیں۔ ترجیحات کا تعین ہمیشہ کچھ اور بنیادوں پر ہوتا ہے، اور عوامی مسائل کسی فہرست میں اوپر نہیں آتے۔ اس عدم توجہی نے لوگوں کو بددل کر دیا ہے۔ وہ اب محض وعدوں پر یقین کرنے کیلئے تیار نہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ خیبر پختونخوا کا نظام اب سوچ کے نئے زاویے سے تبدیل کیا جائے۔ نمائشی کاموں کے بجائے وہ اقدامات کیے جائیں جو عوام کی زندگیوں میں حقیقی آسانیاں لائیں۔ جب تک ہسپتال، تعلیم، پینے کے پانی، امن و امان اور روزگار کے مسائل حل نہیں ہوتے، ترقی کے دعوے محض نعرے ہی رہیں گے۔حکومت کا اصل فرض صرف نمبرز اور اعلانات نہیں، بلکہ عملی خدمت ہے۔ عوام صرف وعدوں کے ذریعے مطمئن نہیں ہوتے، وہ اپنے حقیقی مسائل کے حل کے خواہاں ہیں۔ اگر حکمران دل سے عوام کی حالت بدلنے کا ارادہ کر لیں، تو یہ صوبہ آج بھی تیزی سے ترقی کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔ مگر یہ تب ہی ممکن ہے جب ترجیحات صحیح سمت میں مقرر ہوں، منصوبے مکمل ہوں اور عوام کی روزمرہ زندگی میں حقیقی آسانیاں پیدا ہوں۔ صرف نظر آتی ہوئی بہتری کے دعوے، نمائشی اقدامات یا عارضی حل کچھ دیر کے لیے تسکین تو دے سکتے ہیں، مگر طویل المدتی مسئلہ حل نہیں کرتے۔ترقی کا دارومدار صرف حکومت پر نہیں بلکہ خود عوام کے شعور، جدوجہد اور مطالبات پر بھی ہے۔ جب عوام حق کے لیے مسلسل آواز بلند کریں گے اور حکمران ذمہ داری سے کام لیں گے، تب ہی حقیقی تبدیلی ممکن ہے۔حکومتیں اور قائدین اسی وقت اپنے لوگوں کے حقیقی خدمت گزار کہلائیں گے جب وہ صرف اپنی تصویر صاف کرنے یا دکھاوے کے منصوبے بنانے کے بجائے عوام کی حقیقی ضروریات کو ترجیح دیں۔ تعلیم، صحت، پانی، سڑکیں اور روزگار۔ یہ وہ بنیادی ستون ہیں جن کے بغیر کوئی ترقی مستقل نہیں رہ سکتی۔اگر انہی دو اصولوں کو بنیاد بنا لیا جائے تو خیبر پختونخوا کیلئے ترقی کا راستہ کوئی پیچیدہ مسئلہ نہیں۔ صرف اتنی سی بات کرنے کی دیر ہے کہ سونے کے نتھ جیسے نمائشی اقدامات کو چھوڑ کر ان حقیقی مسائل کی طرف توجہ دی جائے جو واقعی ناک کاٹ دینے والی شدت اختیار کر چکے ہیں۔ ہر شہری کی زندگی، ہر بچے کی تعلیم اور ہر مریض کی صحت اس بات کی متقاضی ہے کہ حکمران اپنی ذمہ داری کو سمجھیں اور فوری، مؤثر اور عملی قدم اٹھائیں۔یہ لمحہ تبدیلی کا ہے، اور ہر گزرتا دن یہ واضح کرتا ہے کہ اگر اب توجہ نہ دی گئی، تو پھر آنے والے برسوں میں پچھلے کئی دہائیوں کی طرح عوامی مشکلات بڑھتی رہیں گی۔ خیبر پختونخوا کی ترقی صرف اعلانات اور پروپیگنڈے سے نہیں بلکہ حقیقی خدمت، عملی اقدامات اور عوام کی بہبود کے لیے مسلسل جدوجہد سے ممکن ہے۔ یہ وقت ہے کہ ہر حکمران اور ہر شہری مل کر اس صوبے کی تقدیر بدلنے کی ٹھوس کوشش کرے، تاکہ آنے والی نسلیں وہ سہولیات حاصل کر سکیں جو آج کے حکمرانوں کے وعدوں میں کہیں کھو گئی ہیں۔

About daily pehchane

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow