تحریر ڈاکٹر علی گوہر چوہدری،
زندگی میں انسان کا کردار ایک وسیلے کا ہوتا ہے، جو دوسروں کی مدد کا ذریعہ بنتا ہے۔ یہ نہ صرف ہمارے کردار کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے بلکہ ہمیں اس بات کا بھی احساس دلاتا ہے کہ ہماری زندگی کا مقصد صرف اپنی خوشی نہیں بلکہ دوسروں کی زندگیوں میں آسانیاں لانا بھی ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ جب ہم کسی کی مدد کرتے ہیں، تو ہم خود کوئی کارنامہ نہیں کرتے، بلکہ صرف قدرت کا وہ وسیلہ بن کر سامنے آتے ہیں جس کا مقصد دوسروں کی زندگیوں میں سکون اور خوشی لانا ہوتا ہے۔
ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ جو مدد ہمیں ملتی ہے، وہ ہمیشہ کسی نہ کسی ذریعے سے آتی ہے۔ کبھی وہ انسان ہوتے ہیں، کبھی قدرت کی طرف سے راستے کھلتے ہیں اور کبھی کوئی غیر متوقع موقع ہمیں مل جاتا ہے۔ لیکن ایک بات ہمیشہ یاد رکھیں، جب قدرت کسی شخص کو مدد کے لئے وسیلہ بناتی ہے، تو وہ شخص پھر کسی کے سامنے جھکنے کی ضرورت نہیں محسوس کرتا۔ اس وسیلے کی مدد سے جو انسان اپنی مشکلات پر قابو پا لیتا ہے، وہ ایک نئے راستے پر چلتا ہے، اور اس کے اندر ایک نئی طاقت اور اعتماد پیدا ہوتا ہے۔
یعنی، جو قدرت کی جانب سے وسیلہ بنتا ہے، اس کو اپنے آپ میں ایک بلند مقام ملتا ہے۔ اس مقام پر پہنچ کر وہ اس بات کی قدر کرتا ہے کہ قدرت نے اس کو اس قابل بنایا کہ وہ دوسروں کی مدد کر سکے۔ ہمیں اپنی زندگی میں ہمیشہ اس بات کی کوشش کرنی چاہیے کہ ہم ایسے شخص بنیں جس کو قدرت وسیلہ کے طور پر منتخب کرے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم صرف دوسروں کی مدد کرنے میں لگے رہیں، بلکہ ہمیں اپنی زندگی میں اس قدر قوت اور صلاحیت پیدا کرنی چاہیے کہ ہم خود بھی ایک مضبوط وسیلہ بن سکیں۔ ایسی زندگی گزارنا جہاں ہم نہ صرف خود کے لیے بلکہ دوسروں کے لیے بھی ایک اچھا وسیلہ ثابت ہوں، یہ سب سے بڑی کامیابی ہے۔
زندگی کا مقصد کبھی بھی صرف اپنی خوشی و تسکین نہیں ہونا چاہیے، بلکہ ہم سب کو اس بات کی کوشش کرنی چاہیے کہ ہم دوسروں کے لئے ایک ذریعہ بن سکیں۔ کیونکہ یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر ہم دنیا میں اپنے وجود کا حقیقی مقصد پا سکتے ہیں۔
