دولت کیا ہے؟

از قلم: طاہرہ کشف
پیسہ ہے؟ نہیں تو
بڑی بڑی عمارات ہیں؟ نہیں تو
جائیداد ہیں؟ نہیں تو
زمینیں ہیں؟ نہیں تو
تو پھر کیا ہے؟
حسن اخلاق، بھائی چارہ، ادب واحترام یہی وہ دولت ہے جس کے بارے میں ہمیں علم نہیں اور ہم کرتے نہیں۔ یہ دولت کسی بینک میں نہیں رکھی جاتی نہ اسے تول کر ناپا جا سکتا ہے اور نہ ہی اسے خریدا جا سکتا ہے۔ یہ دولت دلوں میں بسنے والی ہے اور اس کا اثر ہر انسان کے رویے اور زندگی پر ظاہر ہوتا ہے۔ ایک شخص جو دوسروں کے ساتھ محبت اور احترام سے پیش آتا ہے، جو اپنے الفاظ اور اعمال میں نیکی کو ترجیح دیتا ہے وہ حقیقتاً مالدار ہے۔ دوسرے لوگ شاید اسے نظر انداز کریں یا کم اہم سمجھیں لیکن یہ دولت سب سے قیمتی ہے کیونکہ یہ انسان کو اندر سے مضبوط اور پر سکون بناتی ہے۔ ایک چھوٹا سا عمل، کسی کی مدد کرنا، کسی کا دکھ بانٹنا، بڑوں کا ادب کرنا، یا سچائی کے ساتھ زندگی گزارنا، یہ سب اسی دولت میں اضافہ کرتے ہیں۔ یہ دولت صرف فرد کو نہیں بلکہ پورے معاشرے کو فائدہ پہنچاتی ہے۔ ایک معاشرہ جہاں لوگ ایک دوسرے کا احترام کرتے ہیں۔ بھائی چارہ قائم رکھتے ہیں اور اخلاقی اصولوں پر یقین رکھتے ہیں وہ معاشرہ واقعی خوشحال اور پرامن کہلائے گا۔
یہ حقیقت سمجھنا ضروری ہے کہ دنیاوی دولت وقتی ہوتی ہے۔ زمینیں، عمارات، قیمتی اشیاء اور پیسہ وقت کے ساتھ کم ہو سکتے ہیں یا ضائع ہو سکتے ہیں، لیکن اخلاقی دولت کبھی ختم نہیں ہوتی۔ یہ دولت انسان کی شخصیت کو چمکاتی ہے، اسے عزت دیتی ہے، اور اس کے تعلقات کو مضبوط بناتی ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگی میں حسن اخلاق، بھائی چارہ، ادب اور احترام کو سب سے اوپر رکھیں۔ یہ دولت ہمیں اندر سے مالدار بناتی ہے اور یہی وہ دولت ہے جو ہمیں حقیقی خوشی، سکون اور کامیابی عطا کرتی ہے۔ دنیاوی دولت صرف سہولت دیتی ہے لیکن یہ اخلاقی دولت ہے جو انسان کو حقیقی معنوں میں مالدار بناتی ہے۔

About daily pehchane

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow