دو ارب فوری واپسی اور اصل محرکات

حمید علی
متحدہ عرب امارات کی جانب سے پاکستان کو دیے گئے دو ارب ڈالر کے قرضے کی واپسی یا اس میں اچانک سختی کے فیصلے کو اگر وسیع تر علاقائی تناظر میں دیکھا جائے تو اس کی سب سے نمایاں اور بنیادی وجہ یو اے ای کے اسرائیل اور بھارت کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعلقات دکھائی دیتے ہیں۔ یہ محض ایک مالیاتی معاملہ نہیں بلکہ بدلتی ہوئی خارجہ پالیسیوں، نئے اسٹریٹجک اتحادوں اور خطے میں طاقت کے توازن کی تبدیلی کا عکس ہے۔ ماضی میں پاکستان اور یو اے ای کے تعلقات مذہبی، سیاسی اور دفاعی بنیادوں پر انتہائی مضبوط رہے ہیں، لیکن حالیہ برسوں میں یو اے ای کی ترجیحات میں واضح تبدیلی نظر آتی ہے جس نے پاکستان کے ساتھ اس کے تعلقات کی نوعیت کو بھی متاثر کیا ہے۔
یو اے ای نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کر کے مشرق وسطیٰ کی سیاست میں ایک نیا باب کھولا۔ ابراہام معاہدے کے بعد یو اے ای نے نہ صرف اسرائیل کو تسلیم کیا بلکہ اس کے ساتھ دفاع، ٹیکنالوجی، تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تیزی سے تعاون بڑھایا۔ یہ فیصلہ صرف سفارتی نوعیت کا نہیں تھا بلکہ اس کے پیچھے مضبوط معاشی اور اسٹریٹجک مفادات تھے۔ اسرائیل جدید ٹیکنالوجی، دفاعی نظام اور زرعی ترقی کے حوالے سے دنیا کے اہم ممالک میں شمار ہوتا ہے، اور یو اے ای اپنی معیشت کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے اسرائیل کے ساتھ تعاون کو فائدہ مند سمجھتا ہے۔ اس تبدیلی نے یو اے ای کی خارجہ پالیسی کو نئی سمت دی، جس کے اثرات پاکستان سمیت دیگر ممالک کے ساتھ اس کے تعلقات پر بھی پڑے۔
پاکستان چونکہ اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا اور مسئلہ فلسطین پر واضح اور اصولی موقف رکھتا ہے، اس لیے یو اے ای کی نئی خارجہ پالیسی کے تناظر میں دونوں ممالک کے درمیان فاصلہ پیدا ہونا فطری بات ہے۔ یو اے ای اب خطے میں ایسے اتحادیوں کو ترجیح دے رہا ہے جو اس کی نئی پالیسیوں کے ساتھ ہم آہنگ ہوں۔ پاکستان کا موقف تاریخی اور نظریاتی بنیادوں پر قائم ہے، لیکن عالمی سیاست میں اکثر نظریات سے زیادہ مفادات کو ترجیح دی جاتی ہے، اور یہی صورتحال یہاں بھی دکھائی دیتی ہے۔
اسی طرح بھارت کے ساتھ یو اے ای کے بڑھتے ہوئے تعلقات بھی اس معاملے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یو اے ای اور بھارت کے درمیان تجارت کا حجم تیزی سے بڑھا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان اربوں ڈالر کے معاہدے ہو چکے ہیں۔ یو اے ای میں بڑی بھارتی کمیونٹی موجود ہے جو معیشت میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ یو اے ای نے بھارت میں توانائی، انفراسٹرکچر اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری بھی کی ہے۔ اس معاشی شراکت داری نے دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے قریب کر دیا ہے، جبکہ پاکستان کے ساتھ یو اے ای کے تعلقات نسبتاً سست روی کا شکار نظر آتے ہیں۔
بھارت کے ساتھ یو اے ای کے بڑھتے ہوئے دفاعی اور اسٹریٹجک روابط بھی اہم ہیں۔ دونوں ممالک مشترکہ فوجی مشقوں، انٹیلی جنس تعاون اور سلامتی کے معاملات میں بھی ایک دوسرے کے قریب آ رہے ہیں۔ اس صورتحال نے خطے میں طاقت کے توازن کو متاثر کیا ہے اور پاکستان کے لیے ایک نئی سفارتی چیلنج پیدا کیا ہے۔ یو اے ای اب جنوبی ایشیا میں بھارت کو ایک بڑی معاشی اور اسٹریٹجک طاقت کے طور پر دیکھ رہا ہے، جس کے باعث اس کی ترجیحات میں تبدیلی آنا فطری امر ہے۔
یہ حقیقت بھی اہم ہے کہ یو اے ای اب اپنی خارجہ پالیسی کو زیادہ عملی اور مفاداتی بنیادوں پر استوار کر رہا ہے۔ ماضی میں مذہبی یا روایتی تعلقات کو زیادہ اہمیت دی جاتی تھی، لیکن اب معاشی مفادات، ٹیکنالوجی کی ترقی اور عالمی سیاست میں اثر و رسوخ بڑھانے کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ اسرائیل اور بھارت دونوں ہی ان شعبوں میں یو اے ای کے لیے اہم شراکت دار بن کر ابھرے ہیں، جس کے باعث پاکستان کے ساتھ تعلقات کی نوعیت میں تبدیلی آئی ہے۔
اس تناظر میں پاکستان کو دیے گئے قرضے کی واپسی یا اس میں سختی کا فیصلہ ایک سفارتی اشارہ بھی ہو سکتا ہے۔ یہ پیغام ہو سکتا ہے کہ عالمی سیاست میں بدلتے ہوئے حالات کے ساتھ ہم آہنگ ہونا ضروری ہے اور صرف روایتی تعلقات پر انحصار کافی نہیں۔ یو اے ای شاید یہ بھی ظاہر کرنا چاہتا ہے کہ وہ اب اپنے فیصلے مکمل طور پر معاشی اور اسٹریٹجک مفادات کی بنیاد پر کر رہا ہے، چاہے اس کے اثرات پرانے دوستوں پر ہی کیوں نہ پڑیں۔
تاہم اس کے باوجود پاکستان اور یو اے ای کے تعلقات مکمل طور پر ختم یا کمزور نہیں ہوئے۔ لاکھوں پاکستانی یو اے ای میں کام کر رہے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور دفاعی تعاون بھی جاری ہے۔ مگر یہ واضح ہے کہ عالمی سیاست میں تبدیلیوں نے ان تعلقات کی نوعیت کو متاثر کیا ہے اور اب دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو نئی حقیقتوں کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت ہے۔
یو اے ای کا دو ارب ڈالر قرض واپس لینے کا فیصلہ دراصل اسی بدلتی ہوئی دنیا کا عکس ہے جہاں مفادات، معیشت اور اسٹریٹجک اتحاد روایتی تعلقات پر غالب آتے جا رہے ہیں۔ اسرائیل اور بھارت کے ساتھ یو اے ای کے بڑھتے ہوئے تعلقات اس فیصلے کی بنیادی وجہ دکھائی دیتے ہیں، اور یہی عنصر پاکستان کے لیے ایک اہم سفارتی پیغام بھی ہے کہ عالمی سیاست میں اپنی جگہ برقرار رکھنے کے لیے نئی حکمت عملی اختیار کرنا وقت کی ضرورت بن چکی ہے۔

About daily pehchane

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow