از قلم رائے ظہیر حسین کھرل۔
نشہ صرف ایک بری عادت نہیں، بلکہ ایک ایسا میٹھا زہر ہے جو ہماری نئی نسل کی رگوں میں سرایت کر کے ان کے مستقبل، خوابوں اور توانائی کو چاٹ رہا ہے۔ آج کا نوجوان، جو کسی بھی قوم کا سب سے قیمتی سرمایہ ہوتا ہے، تیزی سے اس دلدل کی طرف کھنچا جا رہا ہے۔ کسی بھی ملک کی ترقی کا دارومدار اس کے نوجوانوں کی ذہنی اور جسمانی صحت پر ہوتا ہے، لیکن بدقسمتی سے آج ہمارے پارک، تعلیمی ادارے اور گلی کوچے ایک ایسی خاموش وبا کی لپیٹ میں ہیں جو بم دھماکوں سے کہیں زیادہ خطرناک ثابت ہو رہی ہے۔ نشہ، جو کبھی صرف مخصوص طبقے تک محدود تھا، اب فیشن اور نام نہاد جدیدیت کا لبادہ اوڑھ کر ہمارے اسکولوں اور کالجوں کے ہاسٹلز تک جا پہنچا ہے۔
نوجوانوں کے نشے کی طرف راغب ہونے کی وجوہات اتنی سادہ نہیں جتنی نظر آتی ہیں، بلکہ اس کے پیچھے نفسیاتی، سماجی اور معاشی عوامل کا ایک پورا جال بچھا ہوا ہے۔ والدین کی مصروفیت اور بچوں کے ساتھ مکالمے کا فقدان اس کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ جب نوجوان کو گھر کے اندر توجہ، پیار اور سکون نہیں ملتا، تو وہ باہر کے نام نہاد ہمدردوں اور عارضی سکون آور اشیاء میں پناہ ڈھونڈنے لگتا ہے۔ اسی طرح ڈگریاں ہاتھ میں تھامے جب نوجوان نوکری کے لیے در در کی ٹھوکریں کھاتا ہے، تو معاشی دباؤ اور مستقبل کی ناامیدی اسے ذہنی فرار پر مجبور کر دیتی ہے۔ رہی سہی کسر سوشل میڈیا اور فلموں کا وہ گلیمر پوری کر دیتا ہے جہاں سگریٹ نوشی یا نشے کو ایک پُرکشش علامت کے طور پر دکھایا جاتا ہے۔ آج کے دور میں آئس اور کرسٹل میتھ جیسے مصنوعی نشے جس آسانی سے دستیاب ہیں، وہ کچے ذہنوں کو لمحوں میں اپنا غلام بنا لیتے ہیں۔
نشے کے اثرات صرف ایک فرد تک محدود نہیں رہتے بلکہ یہ پورے خاندان کو زندہ درگور کر دیتے ہیں۔ نشے کا عادی نوجوان اپنی قوتِ مدافعت کھو بیٹھتا ہے، اس کے جگر اور گردے تباہ ہو جاتے ہیں اور دماغی خلیوں کا مردہ ہونا اسے وقت سے پہلے معذور بنا دیتا ہے۔ جب جسمانی طاقت جواب دے جاتی ہے اور نشے کی طلب پوری کرنے کے لیے پیسے ختم ہو جاتے ہیں، تو یہی نوجوان چوری، ڈکیتی اور چھینا جھپٹی جیسے سنگین جرائم کی طرف مائل ہوتا ہے۔ معاشرہ بھی ایسے فرد کو حقارت کی نظر سے دیکھتا ہے، جس سے وہ مزید تنہائی کا شکار ہو کر اکثر خودکشی جیسے انتہائی اقدامات کر گزرتا ہے۔
اس فتنے کا مقابلہ صرف پولیس یا قانون کے زور پر ممکن نہیں۔ اس کے لیے ہمیں ایک کثیر الجہتی حکمت عملی اپنانی ہوگی۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کے بہترین دوست بنیں اور ان کی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھیں۔ تعلیمی اداروں میں محض نصابی تعلیم کافی نہیں، بلکہ وہاں باقاعدگی سے ایسے آگاہی پروگرام ہونے چاہئیں جو نوجوانوں کو اس زہر کے نقصانات سے ڈرائیں۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ منشیات کے بڑے مگرمچھوں پر ہاتھ ڈالے اور اس کی سپلائی لائن کو جڑ سے کاٹ دے۔ ساتھ ہی سرکاری سطح پر ایسے بحالی کے مراکز قائم کیے جائیں جہاں ان بیمار نوجوانوں کا علاج ہمدردی اور عزتِ نفس کے ساتھ کیا جائے۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ نشے کا عادی نوجوان کوئی پیدائشی مجرم نہیں بلکہ ایک ایسا بھٹکا ہوا مسافر ہے جسے ہماری نفرت کی نہیں بلکہ سہارے کی ضرورت ہے۔ اگر آج ہم نے اپنی آنکھیں بند رکھیں اور اس زہر کو پھیلنے دیا، تو ہماری تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم اس خاموش تباہی کے خلاف متحد ہو جائیں، کیونکہ ایک تندرست اور باشعور نوجوان ہی ایک مضبوط مستقبل کی ضمانت ہے۔ ہماری تھوڑی سی توجہ اور تھوڑا سا وقت کسی کا بجھتا ہوا چراغ دوبارہ روشن کر سکتا ہے۔
Latest Posts
