تحریر: ثناء اللہ مجیدی
دنیا میں انسان علم بہت حاصل کرتا ہے، کتابیں پڑھتا ہے، مجالس میں بیٹھتا ہے، وعظ سنتا ہے اور زندگی کے مختلف تجربات سے گزرتا ہے؛ مگر اصل سوال یہ ہے کہ ان سب چیزوں میں سے انسان اپنی زندگی میں کتنا عمل اختیار کرتا ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ علم کی اصل روح، عمل میں پوشیدہ ہے۔ اگر علم، انسان کے کردار، اخلاق اور سوچ کو نہ بدلے تو وہ محض الفاظ کا مجموعہ رہ جاتا ہے۔ تاریخِ اسلام میں ہمارے اسلاف نے علم کو صرف یاد کرنے کی چیز نہیں سمجھا بلکہ اسے زندگی کا حصہ بنایا۔ انہی درخشاں واقعات میں ایک عظیم واقعہ حضرت شیخ شفیق بلخی رحمہ اللہ اور ان کے شاگرد حضرت حاتم رحمہ اللہ کا بھی ہے، جو انسان کو جھنجوڑ کر رکھ دیتا ہے۔
ایک روز حضرت شیخ شفیق بلخی رحمہ اللہ نے اپنے شاگرد حضرت حاتم رحمہ اللہ سے دریافت کیا: ”تم کتنے عرصے سے میرے ساتھ ہو؟“
انہوں نے ادب سے عرض کیا: ”بتیس سال سے۔“
شیخ نے فرمایا: ”اتنے طویل عرصے میں تم نے مجھ سے کیا سیکھا؟“
حضرت حاتم رحمہ اللہ نے نہایت عاجزی سے جواب دیا: ”حضور! میں نے صرف آٹھ مسئلے سیکھے ہیں۔“
یہ سن کر شیخ بول اٹھے: ”انا للہ وانا الیہ راجعون۔ میرے اتنے سال تم پر صرف ہوئے اور تم نے صرف آٹھ باتیں سیکھیں۔“
حضرت حاتم رحمہ اللہ نے عرض کیا: ”استادِ محترم! اس سے زیادہ نہ سیکھ سکا، اور جھوٹ بھی نہیں بول سکتا۔“
شیخ نے فرمایا: ”اچھا، سناؤ وہ آٹھ باتیں کیا ہیں۔“
۱۔ نیکیوں کو اپنا محبوب بنانا
حضرت حاتم رحمہ اللہ نے عرض کیا: ”میں نے لوگوں کو دیکھا کہ ہر کسی کا کوئی نہ کوئی محبوب ہوتا ہے، جو قبر تک ساتھ رہتا ہے۔ مگر قبر میں پہنچتے ہی سب جدا ہو جاتے ہیں۔ اس لیے میں نے اپنی نیکیوں کو اپنا محبوب بنا لیا، تاکہ وہ میرے ساتھ قبر میں بھی رہیں۔“
یہ پہلا اصول انسان کو آخرت کی حقیقت یاد دلاتا ہے۔ دنیا کی ہر محبت عارضی ہے، مگر نیک اعمال ہمیشہ ساتھ رہتے ہیں۔ اگر انسان اس حقیقت کو سمجھ لے تو اس کی زندگی کی ترجیحات بدل جائیں۔
۲۔ اصل محفوظ خزانہ اللہ کے پاس ہے
حضرتِ حاتم رحمہ اللہ نے فرمایا: ”میں نے دیکھا کہ لوگ قیمتی چیزوں کو سنبھال کر رکھتے ہیں، ان کی حفاظت کرتے ہیں۔ پھر میں نے اللہ کا فرمان پڑھا:
جو کچھ تمہارے پاس ہے، وہ ختم ہو جائے گا، اور جو اللہ کے پاس ہے، وہ باقی رہے گا۔
تو میں نے ہر قیمتی چیز اللہ کی راہ میں دے دی، تاکہ وہ ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو جائے۔“
یہ اصول ہمیں سکھاتا ہے کہ دنیاوی مال و دولت فانی ہے۔ اصل سرمایہ وہ ہے جو اللہ کی راہ میں خرچ کیا جائے۔
۳۔ نفس کی خواہشات کو قابو میں رکھنا
حضرتِ حاتم رحمہ اللہ نے فرمایا: ”میں نے غور کیا کہ اللہ فرماتا ہے: جو اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرا اور نفس کو خواہشات سے روکا، جنت اسی کا ٹھکانہ ہے۔تو میں نے اپنے نفس کو قابو میں کیا اور اسے اطاعتِ الٰہی کا پابند بنا لیا۔“
آج انسان خواہشات کا غلام بنتا جا رہا ہے جب کہ کامیابی اسی میں ہے کہ انسان اپنے نفس کو اللہ کے حکم کے تابع بنا لے۔
۴۔ حقیقی عزت تقویٰ میں ہے
حضرتِ حاتم رحمہ اللہ نے فرمایا: ”میں نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ مال، حسب نسب اور دنیاوی مرتبوں پر فخر کرتے ہیں۔ پھر اللہ کا فرمان دیکھا: اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے، جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔
تو میں نے تقویٰ اختیار کیا، تاکہ حقیقی عزت حاصل ہو۔“
یہ اصول انسان کے غرور کو توڑتا ہے اور یاد دلاتا ہے کہ اصل عزت صرف تقویٰ اور نیکی میں ہے۔
۵۔ حسد چھوڑ دینا
حضرتِ حاتم رحمہ اللہ نے فرمایا: ”میں نے دیکھا کہ لوگ ایک دوسرے سے حسد کرتے ہیں، بدگمانی کرتے ہیں۔ پھر اللہ کا یہ فرمان پڑھا:”ہم نے دنیا میں ان کی روزی ان کے درمیان تقسیم کی ہے۔“تو میں نے حسد چھوڑ دیا اور دل کو سکون ملا کہ سب کچھ اللہ کے اختیار میں ہے۔“
حسد انسان کے سکون کو تباہ کر دیتا ہے، جبکہ اللہ کے فیصلوں پر راضی رہنے والا ہمیشہ مطمئن رہتا ہے۔
۶۔ اصل دشمن شیطان ہے
حضرتِ حاتم رحمہ اللہ نے فرمایا: ”میں نے دیکھا کہ لوگ ایک دوسرے کے دشمن بنے ہوئے ہیں، لڑتے جھگڑتے ہیں۔ پھر اللہ کا فرمان یاد آیا:”بے شک شیطان تمہارا دشمن ہے، تم بھی اسے دشمن جانو۔
تو میں نے صرف شیطان کو اپنا دشمن سمجھا اور اسی سے بچنے کی کوشش کی۔“
اگر انسان اس حقیقت کو سمجھ لے تو نفرتیں اور دشمنیاں کم ہو سکتی ہیں۔
۷۔ رزق اللہ کے ذمہ ہے
حضرتِ حاتم رحمہ اللہ نے فرمایا: ”میں نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ رزق کے لیے خود کو ذلیل کرتے ہیں، ناجائز راستے اختیار کرتے ہیں۔ پھر اللہ کا ارشاد دیکھا:”زمین پر چلنے والا کوئی جاندار ایسا نہیں، جس کا رزق اللہ کے ذمہ نہ ہو۔“تو میں نے رزق کی فکر چھوڑ کر اپنے فرائض پر توجہ دی۔“
یہ اصول انسان کو حرام راستوں سے بچنے اور اللہ پر یقین رکھنے کا درس دیتا ہے۔
۸۔ توکل علی اللہ
حضرتِ حاتم رحمہ اللہ نے فرمایا: ”میں نے دیکھا کہ ہر شخص کسی نہ کسی چیز پر بھروسہ کرتا ہے۔ کوئی دولت پر، کوئی کاروبار پر، کوئی اپنی طاقت یا علم پر۔ پھر اللہ کا فرمان پڑھا:”جو اللہ پر بھروسہ کرے، وہ اس کے لیے کافی ہے۔“تو میں نے صرف اللہ پر توکل کیا، اور وہی میرے لیے کافی ہو گیا۔“
یہ آخری اصول انسان کے دل کو سکون، اطمینان اور مضبوطی عطا کرتا ہے۔
یہ سن کر حضرت شیخ شفیق بلخی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اے میرے پیارے شاگرد حاتم! اللہ تمہیں ان پر عمل کی توفیق دے۔ میں نے قرآن کے علوم کا گہرا مطالعہ کیا تو پایا کہ ان سب کی بنیاد انہی آٹھ اصولوں میں ہے۔ جو ان پر عمل کرے، گویا اس نے تمام آسمانی کتابوں کا نچوڑ حاصل کر لیا۔“
حقیقت بھی یہی ہے۔ اگر انسان ان آٹھ اصولوں کو اپنی زندگی میں اپنا لے تو اس کی سوچ، کردار، عبادات اور تعلقات سب بدل سکتے ہیں۔ آج ہمارا معاشرہ بے سکونی، حسد، نفرت، لالچ اور دنیا پرستی کا شکار ہے۔ لوگ دولت تو حاصل کر رہے ہیں مگر سکون کھو بیٹھے ہیں۔ رشتے کمزور ہو رہے ہیں، دل سخت ہو رہے ہیں اور انسان مادیت میں کھو گیا ہے۔ ایسے وقت میں یہ آٹھ اصول ہمارے لیے روشنی کا مینار ہیں۔ یہ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ اصل کامیابی دنیاوی چمک دمک میں نہیں بلکہ اللہ کی رضا میں ہے۔یہ واقعہ ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ علم کی کثرت سے زیادہ اہم اس پر عمل کرنا ہے۔ بہت سے لوگ کتابیں پڑھتے ہیں، وعظ سنتے ہیں مگر ان کی زندگی میں کوئی تبدیلی نہیں آتی۔ جبکہ کچھ لوگ تھوڑا علم حاصل کرتے ہیں مگر اس پر اخلاص کے ساتھ عمل کرتے ہیں، اور وہی کامیاب ہو جاتے ہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے بچوں کو بھی یہی اصول سکھائیں۔ انہیں صرف دنیاوی تعلیم ہی نہ دی جائے بلکہ اللہ پر یقین، تقویٰ، صبر، قناعت اور اخلاق کی تربیت بھی دی جائے۔ کیونکہ اصل کامیابی اچھی نوکری یا زیادہ دولت نہیں بلکہ ایک پاکیزہ کردار ہے۔بالآخر یہی کہا جا سکتا ہے کہ حضرت حاتم رحمہ اللہ کے بیان کردہ یہ آٹھ اصول دراصل ایک مکمل ضابطۂ حیات ہیں۔ اگر انسان اخلاص کے ساتھ ان پر عمل کر لے تو اس کی دنیا بھی سنور سکتی ہے اور آخرت بھی کامیاب ہو سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان اصولوں کو سمجھنے، ان پر عمل کرنے اور اپنی زندگیوں کو حقیقی معنوں میں بدلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!
Latest Posts
