ندیم یعقوب گوہر
کسی بھی قوم کی زندگی میں وہ لمحہ فیصلہ کن ہوتا ہے جب وہ محض بقا کی جنگ سے نکل کر وقار کی راہ پر گامزن ہونے کا فیصلہ کرتی ہے۔ پاکستان اس وقت ایک ایسے ہی موڑ پر کھڑا ہے جہاں معاشی بحرانوں کے گرداب سے نکلنے کا واحد راستہ ایک بھرپور اور ہمہ گیر صنعتی انقلاب میں پوشیدہ ہے۔ معاشی انقلاب درحقیقت کسی جادوئی چراغ کا نام نہیں بلکہ یہ مادی وسائل کو انسانی ہنر کے سانچے میں ڈھال کر قدر پیدا کرنے کا عمل ہے، اور اس عمل کی بنیاد صنعت ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ برطانیہ سے لے کر چین تک، جس قوم نے بھی عالمی افق پر اپنا لوہا منوایا، اس کے پیچھے ایک مضبوط صنعتی ڈھانچہ موجود تھا۔ صنعت ہی وہ قوت ہے جو ایک بنجر معیشت کو زرخیز بناتی ہے، کیونکہ یہ خام مال کو ایسی مصنوعات میں تبدیل کرتی ہے جن کی قیمت عالمی منڈی میں کئی گنا زیادہ ہوتی ہے۔ جب ہم اپنی کپاس کو سستے داموں بیچ کر مہنگا کپڑا باہر سے منگواتے ہیں، تو ہم دراصل اپنی غربت کو برآمد کر رہے ہوتے ہیں، لیکن جب اسی کپاس کو مقامی کارخانوں میں بہترین ملبوسات کی شکل دی جاتی ہے تو معاشی انقلاب کی پہلی کرن نمودار ہوتی ہے۔
آج کی عالمی معیشت میں پاکستان کا صنعتی شعبہ اگرچہ اپنی بساط بھر کوشش کر رہا ہے، لیکن اسے وہ مقام حاصل نہیں جو اس کا حق تھا۔ اس وقت ٹیکسٹائل، سیمنٹ اور آئی ٹی جیسے شعبے معاشی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ ہماری ٹیکسٹائل کی صنعت نہ صرف لاکھوں گھروں کا چولہا جلا رہی ہے بلکہ ملک کو وہ قیمتی زرِ مبادلہ کما کر دے رہی ہے جس پر ہماری درآمدات کا دارومدار ہے۔ آئی ٹی کی صنعت نے حالیہ برسوں میں ایک خاموش انقلاب برپا کیا ہے، جہاں ہمارے نوجوان اپنے کمروں میں بیٹھ کر اپنی ذہنی صلاحیتوں کے ذریعے ڈالرز ملک میں لا رہے ہیں۔ تاہم، یہ کردار ابھی تک ادھورا ہے کیونکہ ہم ابھی تک صرف چند روایتی شعبوں تک محدود ہیں۔ صنعتی انقلاب کے لیے ہمیں صرف کپڑا بننے تک نہیں رہنا بلکہ ہمیں وہ مشینیں بھی خود بنانی ہوں گی جو کپڑا بنتی ہیں۔ موجودہ معاشی منظرنامے میں صنعت کا کردار محض چند اداروں تک محدود ہونے کے بجائے پوری قوم کی رگوں میں دوڑتے ہوئے خون کی مانند ہونا چاہیے جو پیداواری صلاحیت کو بڑھا کر قرضوں کے بوجھ کو ہلکا کر سکے۔
اس عظیم مقصد کے حصول کے لیے حکومت کا کردار ایک ایسے مالی (Gardener) جیسا ہونا چاہیے جو پودے لگانے کے بجائے زمین کو زرخیز بناتا اور مناسب ماحول فراہم کرتا ہے۔ حکومت کی اولین ذمہ داری یہ ہے کہ وہ پالیسیوں میں وہ استحکام پیدا کرے جو ایک سرمایہ کار کو اعتماد دے سکے۔ صنعت کار کو یہ خوف نہیں ہونا چاہیے کہ کل صبح اٹھ کر بجلی کے نرخ بدل جائیں گے یا ٹیکسوں کا نیا جال بچھ جائے گا۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ ‘ون ونڈو’ آپریشن کے ذریعے سرخ فیتے کا خاتمہ کرے تاکہ ایک نیا کارخانہ لگانے والا شخص درجنوں دفاتر کی خاک چھاننے کے بجائے اپنی پوری توجہ پیداوار پر مرکوز کر سکے۔ سستی توانائی کی فراہمی اور صنعتی زونز کا قیام حکومت کی ترجیح ہونی چاہیے، تاکہ ہماری مصنوعات عالمی منڈی میں قیمت کے لحاظ سے مسابقت کر سکیں۔ اس کے علاوہ، تعلیمی نظام کو صنعت کی ضروریات کے مطابق ڈھالنا بھی ریاست کی ذمہ داری ہے تاکہ ڈگریاں نہیں بلکہ ہنر مند ہاتھ پیدا ہوں جو مشینوں کو چلانے کا فن جانتے ہوں۔
دوسری طرف، اس انقلاب میں عوام اور خصوصاً سرمایہ کار طبقے کا کردار انتہائی نازک ہے۔ ہمیں اپنے رویوں میں تبدیلی لانی ہوگی۔ پاکستان کا المیہ یہ رہا ہے کہ یہاں کا سرمایہ کار پیسہ لگا کر کارخانہ لگانے کے بجائے پلاٹوں کی فائلوں میں سرمایہ کاری کو ترجیح دیتا ہے کیونکہ وہاں بغیر کسی محنت کے منافع ملتا ہے۔ عوام کو یہ سمجھنا ہوگا کہ رئیل اسٹیٹ میں لگا ہوا پیسہ معیشت کے لیے ‘مردہ سرمایہ’ ہے جو روزگار پیدا نہیں کرتا۔ صنعتی انقلاب کے لیے ہمیں اپنے سرمائے کو کارخانوں کی طرف موڑنا ہوگا جہاں سے پیداوار برآمد ہو اور لوگوں کو نوکریاں ملیں۔ ایک عام شہری کے طور پر ہمارا کردار یہ ہونا چاہیے کہ ہم غیر ملکی برانڈز کے سحر سے نکل کر ‘میڈ ان پاکستان’ کو ترجیح دیں۔ جب تک ہم خود اپنی بنی ہوئی اشیاء پر فخر نہیں کریں گے، دنیا ہماری مصنوعات کو وقعت نہیں دے گی۔ حب الوطنی کا تقاضا ہے کہ ہم ملکی صنعت کے خریدار بنیں تاکہ مقامی کاروبار ترقی کر سکیں۔
انفرادی اور حکومتی سطح پر کرنے کے بہت سے کام ہیں جن کے لیے ترجیحات کا تعین ضروری ہے۔ انفرادی سطح پر نوجوانوں کو روایتی ملازمتوں کے بجائے انٹرپرینیورشپ اور چھوٹے پیمانے کی صنعتوں (SMEs) کی طرف آنا چاہیے۔ آج کا دور مائیکرو چپس، اے آئی ٹیکنالوجی اور بائیو ٹیکنالوجی کا ہے۔ انفرادی سطح پر چھوٹے یونٹس لگا کر پرزہ جات کی تیاری (Spare Parts Manufacturing) پر توجہ دی جا سکتی ہے جو بڑی صنعتوں کو فیڈ کریں۔ حکومتی سطح پر بھاری مشینری، پیٹرو کیمیکلز اور الیکٹرک وہیکل (EV) ٹیکنالوجی جیسے بڑے شعبوں میں شراکت داری کے ذریعے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ زراعت کو صنعت کے ساتھ جوڑ کر ‘ایگرو بیسڈ انڈسٹری’ کو فروغ دینا حکومت کا بڑا ٹاسک ہونا چاہیے تاکہ ہم پھل اور سبزیاں کچی حالت میں بیچنے کے بجائے ان سے بنی پراسیسڈ مصنوعات برآمد کر سکیں۔ اسی طرح معدنیات کی صفائی اور ریفائننگ کے پلانٹس لگانا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
جب یہ صنعتی انقلاب برپا ہوگا تو اس کے فوائد اتنے ہمہ گیر ہوں گے کہ معاشرے کی کایا پلٹ جائے گی۔ سب سے پہلا فائدہ معاشی خود مختاری کی صورت میں ملے گا جہاں ہم آئی ایم ایف اور دیگر مالیاتی اداروں کی کڑی شرائط سے نجات پا لیں گے۔ جب ملک کی اپنی پیداوار ہوگی اور برآمدات بڑھیں گی تو روپے کی قدر مستحکم ہوگی اور مہنگائی کا جن قابو میں آ جائے گا۔ روزگار کے اتنے مواقع پیدا ہوں گے کہ ہمارے ہنر مند نوجوانوں کو باہر کے ملکوں میں دھکے نہیں کھانے پڑیں گے بلکہ وہ اپنے ملک کی تعمیر و ترقی میں حصہ لیں گے۔ صنعتی انقلاب سے ٹیکنالوجی کا فروغ ہوگا جو ہماری زندگیوں میں آسانی لائے گا اور معیارِ زندگی بلند ہوگا۔ شہروں پر بڑھتا ہوا دباؤ کم ہوگا کیونکہ جہاں صنعتیں لگیں گی وہاں نیا انفراسٹرکچر، سڑکیں، اسکول اور ہسپتال خود بخود بنیں گے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ پاکستان ایک ‘صارف قوم’ کے بجائے ایک ‘پیدا کنندہ قوم’ بن کر ابھرے گا، جس سے عالمی سطح پر ہمارا وقار بڑھے گا اور ہماری آواز میں وہ وزن پیدا ہوگا جو صرف معاشی طور پر مضبوط ملکوں کا خاصہ ہوتا ہے۔
Latest Posts
